28 اکتوبر 2026 - 09:42
ایرانی نمائندے کا اعلان: ایران سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں

اقوامِ متحدہ میں ایران کے نمائندے نے سلامتی کونسل کے آج ہونے والے ایران سے متعلق اجلاس کو قانونی جواز سے محروم قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے نمائندے نے کہا کہ ایران کے بارے میں منعقدہ اجلاس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے اور تہران اسے واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔سلامتی کونسل کا یہ اجلاس مغربی ممالک اور بحرین کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے غلامحسین درزی نے کہا:

اس اجلاس کے انعقاد کی کوئی قانونی اور معتبر بنیاد نہیں ہے اور ہم اسے دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ قرارداد 2231 کی مدت 18 اکتوبر 2025ء کو ختم ہو چکی ہے اور اس تاریخ کے بعد اس معاملے کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہی۔

ایرانی سفارت کار نے ایران پر امریکہ اور صیہونی حکومت کی جارحیت کے معاملے پر سلامتی کونسل کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کونسل ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف فوجی جارحیت اور سفارت کاری مخالف اقدامات پر بے عملی اور خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی جوہری تنصیبات پر بار بار حملوں سے تابکاری کے اخراج کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

سلامتی کونسل میں ایران کے نمائندے نے بتایا کہ 17 مارچ کو بوشہر کے فعال جوہری بجلی گھر سے تقریباً 350 میٹر کے فاصلے پر واقع ایک تنصیب کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 21 مارچ کو نطنز کی جوہری تنصیبات کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ 24 مارچ کو بوشہر جوہری بجلی گھر کی حدود میں ایک پرتابہ آ کر گرا۔

درزی کے مطابق، 27 مارچ کو بوشہر جوہری بجلی گھر کے علاقے پر تیسری مرتبہ حملہ کیا گیا۔ ان حملوں سے تابکار مواد کے اخراج اور اس کے تباہ کن نتائج کا سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

ایرانی نمائندے نے کہا کہ یہ حملے سلامتی کونسل کی قرارداد 487، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے متعلقہ فیصلوں اور قراردادوں، اور بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔

سلامتی کونسل کی کارکردگی پر دوبارہ تنقید کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا:

ان جارحیتوں کے جواب میں سلامتی کونسل نے کیا کیا؟ خاموشی! بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیوں، شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں اور پُرامن جوہری تنصیبات پر حملوں کے سامنے خاموشی۔

سلامتی کونسل میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے غلامحسین درزی نے امریکی نمائندے کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان دعوؤں کو دہرائے جانے والے، بے بنیاد الزامات قرار دیا۔ ان کے مطابق، یہ واشنگٹن کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔

درزی نے کہا کہ امریکی نمائندہ ایران کے خلاف اپنے ملک کی کھلی جارحیت کے لیے کوئی معتبر دلیل یا جواز پیش نہیں کر سکا اور اس نے ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کے بارے میں پرانے جھوٹ اور بے بنیاد الزامات دہرانے پر اکتفا کیا۔

انہوں نے کہا:حقائق واضح ہیں: امریکہ اور صیہونی حکومت نے جارحانہ اقدامات کیے ہیں، جن میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں کام کرنے والی ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر بار بار فوجی حملے بھی شامل ہیں۔ ایران کے رہائشی علاقوں، اسکولوں، اسپتالوں، پلوں، ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور بندرگاہوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی پروپیگنڈا حقائق کو الٹ نہیں سکتا، ایرانی عوام کی تکالیف ختم نہیں کر سکتا اور نہ ہی جارحیت کرنے والی حکومتوں کو ان کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے بری کر سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha